042-36628025

Contact us: info@jamiataha.com

Tafseeri Afadiyat

Tafseeri Afadiyat
تفسیری افادات # 27 انتخاب از خلاصہ تفسیر مفتی حماد فضل عفی عنہ

[9:47 AM, 1/11/2018] Bhai Aqib: پندرہویں سپارے میں اللہ جل شانہ نے نبی علیہ الصلوۃ السلام کے معراج پر جانے کے واقعے کا ذکر فرمایا ہے. جب نبی علیہ الصلوۃالسلاممعراج پر تشریف لے گئے تو تو انھوں نے وہاں جنت دوزخ کا خود معائنہ کیا.اللہ جل شانہ سے ملاقات ہوئی اور ملاقات میں اللہ سے کیا بات ہوئی وہ اللہ جانے اور اللہ کے حبیب علیہ السلام جانیں. ہم ایمان لاتے ہیں کہ یہ ملاقات برحق ہے اور یقینا ہوش و حواس میں آقا علیہ السلام نے جسمِ اطہر کے ساتھ ہی کی اور اس وقت امت کو پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم ملا. اس کے بعد آقا علیہ الصلوۃالسلام بیت المقدس میں اترے اور جن انبیاءاکرام سے مختلف آسمانوں میں ملاقات ہوئی تھی وہ بھی آپ کے ساتھ اترے گویا کہ کسی کو الوداع کہنے کے لیے بیت المقدس تک ساتھ آئے. اور اس وقت آپ علیہ الصلوۃالسلام نے نماز میں تمام انبیاء علیہ السلام کی امامت فرمائی. اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ امامتِ انبیاء کا واقعہ آسمانوں پر جانے سے پہلے پیش آیا.اور آسمانوں پر جانے سے پہلے یہ بات ہوئی.چناچہ دیکھا جائے تو یہ سمجھ آتا ہے کہ امامت کا یہ واقعہ واپسی پر ہوا کیونکہ آقا علیہ السلام آسمانوں پر تشریف لے گئے تو انبیاء علیہ السلام سے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے تعارف کرایا. تو اگر امامت پہلے ہوچکی ہوتی تو تعارف کی ضرورت نہ پیش آتی. اور اس سفر کا اصل مقصد عالم بالا میں جانے کا تھا.پھر آقا علیہ السلام جب واپس تشریف لائے تو بیت المقدس میں امامت فرمائی اور اس کے بعد جبرائیل امین کے ہمراہ وہاں سے براق میں مکہ مکرمہ پہنچ گئے. دیگر تفسیری افادات اور بیانات کے لیے وزٹ کریں ہماری ویب سائٹ jamiataha.com ہر اتوار کو سنیے میرا تذکرہ قرآن میں jamiataha.com

Tafseeri Afadat# 27
[9:47 AM, 1/11/2018] Bhai Aqib: تفسیری افادات# 28 انتخاب از خلاصہ تفسیر مفتی حماد فضل عفی عنہ

بارہویں سپارے میں سورہِ یوسف میں اللہ تعالیٰ نے اس سورت کو احسن القصص فرمایا. اور فرمایا کہ تمام قصوں سے افضل. اس کی کیا وجہ ہے؟ وجہ یہ ہے کہ اس قصے کے اندر، اس واقعے کے اندر بے تحاشا عبرت کے نمونے ہیں.بے تحاشا نکات ہیں. اس قصے میں دین بھی ہے اور دنیا بھی ہے.اس میں توحید کو بھی اللہ نے بیان کیا اور فقہے کو بھی بیان کیا.سیرت کو بھی بیان کیا.سوانح کو بھی بیان کیا. اس میں خوابوں کی تعبیر کو بھی اللہ جل شانہ نے بیان فرمایا.سیاست کے حکومت کے رموز اور اصولوں کو بھی بیان کیا.معاشی نظام کو بھی بیان کیاکہ کس طرح معشیت کو سنوارا جائے گا. انسانی نفسیات کو بھی کو بھی بیان کیا. حسن و عشق کا انجام بھی بیان کیا، عشقِ مجازی کا کیا انجام ہوتا ہے وہ بیان فرمایا. انبیاء السلام اور صالحین کا تذکرہ بھی بیان فرمایا. ملائکہ، پرندوں کا، جنوں اور انسانوں کا بھی.بادشاہ، تاجروں، عالموں اور جاہلوں کے حالات بھی بیان فرمائے. راستے سے ہٹنے والی عورتوں کے مکر کو بھی ذکر فرمایا.پاک دامنی کے عروج کو بھی ذکر فرمایا. اور دوسری اور بھی ایک خوبی جو اس قصے کے اندر پائی جاتی ہے وہ یہ کہ اس واقعے کی بہت زیادہ مماثلت ہمارے آقا دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے.جس طرح حضرت یوسف علیہ اسلام کے جو بھائی تھے انھوں نے ان کو شہید کرنے کی پوری کوشش کی مارے حسد کے، بالکل اس طرح ہمارے آقا الصلوۃ السلام سے بھی قریش نے حسد کیا.قتل کے مشورے کیے. حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنا آبائی وطن چھوڑنا پڑا. اور ہمارے آقا علیہ الصلوۃالسلام کو مکہ مکرمہ چھوڑنا پڑا، تین دن تک غارِ ثور میں روپوش ہونا پڑا اور پھر وہں سے مدینہ منورہ ہجرت فرماگئے اور وہاں بتدریج عروج حاصل ہوا، بالکل اسی طرح سے حضرت یوسف علیہ السلام کو بھی بتدریج عروج حاصل ہوا.تو جب مکہ مکرمہ فتح ہوا تو قریش بھائی بے حد شرمندہ ہوئے. اسی طرح سے حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی بھی بے حد شرمندہ ہوئے. اور آقا علیہ الصلوۃالسلام نے فتح مکہ کے موقع پر یہ جملہ بھی ارشاد فرمایا کہ "میں تم سے وہی بات کہتا ہوں جو میرے بھائی حضرت یوسف علیہ السلام نے کہی تھی کہ جاؤ تم آزاد ہو تم پر کوئی الزام نہیں. " تو قرآن پاک میں حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعے میں تکرار نہیں ہے. پورا واقعہ شروع سے لے کر آخر تک سورہِ یوسف میں ہی ذکر ہے.

Tafseeri Afadat# 28
تفسیری افادات #29 انتخاب از خلاصہ تفسیر مفتی حماد فضل عفی عنہ

تیرہویں سپارے میں سورہِ رعد میں اللہ جل شانہ فرماتے ہیں کہ اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا یہاں تک کہ وہ خود اپنی حالت نہ بدلے. خود اپنے آپ کو تبدیل کرنے کا ارادہ نہ کرے. اس آیت میں جو اصل مفہوم اور مقصد ہے وہ یہ ھےکہ جب کسی قوم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عافیت ہو نعمت ہو. حالتِ امن ہو تو اللہ تعالیٰ اس حالتِ امن اور نعمتوں کو تبدیل نہیں کرتے جب تک وہ قوم اپنے بداعمالیوں کے ذریعے سے خود اس کو تبدیل نہ کردے. اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو سرکشی اور ناشکری میں نہ بدل دے.قوم خود اس کو جھٹلادیتی ہےگناہوں کے سبب سےتو اللہ کی نعمت سے محروم ہوجاتی ہیے اور دوسرا جو اس کا مفہوم ہے وہ یہ بھی نکلتا ہے کہ قوم اس وقت تک انقلاب کی طرف نہیں آسکتی جب تک خود کو تبدیل نہ کرلے. مگر یہ ایک ضمنی معنی ہے۔ اصل معنیٰ یہ ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی نعمت اور عافیت ملی ہو اللہ تعالیٰ اس کو نہیں چھینتاتاوقتیکہ.وہ خود اپنے بد اعمالیوں کے زریعے سے اور ناشکری کے زریعے سے اس کو دور نہ کروادے. مزید افادات کی لیے وزٹ کریں ہماری ویب سائٹ jamiataha.com

Tafseeri Afadat# 29
تفسیری افادات#30 انتخاب از خلاصہ تفسیر مفتی حماد عفی عنہ

سترہویں پارے میں سورہِ انبیاء میں اللہ تبارک تعالیٰ فرماتے ہیں "ہم نے تمھاری طرف ایک ایسی کتاب اتاری ہے اس میں تمھارا اپنا ذکر موجود ہے کیا تم سمجھتے نہیں ہو؟" کیا تم شعور نہیں رکھتے ہو؟ علامہ مروزی نے ایک واقعہ نقل کیا ھے کہ ایک جليل القدر تابعی اور عرب سردار احنف بن قيس ايک دن بيٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے يہ آيت پڑھی لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (سورۃ انبياء 10) (ترجمہ) ”ہم نے تمہاری طرف ايسی کتاب نازل کی جس ميں تمہارا تذکرہ ہے، کيا تم نہيں سمجھتے ہو“۔ وہ چونک پڑے اور کہا کہ ذرا قرآن مجيد تو لاؤ۔ اس ميں، ميں اپنا تذکرہ تلاش کروں، اور ديکھوں کہ ميں کن لوگوں کے ساتھ ہوں، اور کن سے مجھے مشابہت ہے؟ انہوں نے قرآن مجيد کھولا، کچھ لوگوں کے پاس سے ان کا گزر ہوا، جن کی تعريف يہ کی گئی تھی كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ o وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ o وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ِ (الذريٰت-17،18،19) (ترجمہ) ”رات کے تھوڑے حصے ميں سوتے تھے، اور اوقات سحر ميں بخشش مانگا کرتے تھے، اور ان کے مال ميں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا“۔ کچھ اور لوگ نظر آئے جن کا حال يہ تھا، تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ (السجدہ۔ 16) (ترجمہ) ”ان کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہيں (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف اور اُميد سے پکارتے ہيں۔ اور جو (مال) ہم نے ان کو ديا ہے، اس ميں سے خرچ کرتے ہيں“۔ کچھ اور لوگ نظر آئے جن کا حال يہ تھا، وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا (الفرقان۔ 64) (ترجمہ) ”اور جو اپنے پروردگار کے آگے سجدہ کرکے اور (عجز وادب سے) کھڑے رہ کر راتيں بسر کرتے ہيں“۔ اور کچھ لوگ نظر آئے جن کا تذکرہ اِن الفاظ ميں ہے، الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاء وَالضَّرَّاء وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (اٰل عمران۔ 134) (ترجمہ) ”جو آسودگی اور تنگی ميں (اپنا مال خدا کي راہ ميں) خرچ کرتے ہيں، اور غصہ کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہيں، اور خدا نيکو کاروں کو دوست رکھتا ہے“۔ اور کچھ لوگ ملے جن کی حالت يہ تھی، وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الحشر۔ 9) (ترجمہ) ”(اور) دوسروں کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہيں خواہ ان کو خود احتياج ہی ہو، اور جو شخص حرص نفس سے بچا ليا گيا تو ايسے ہی لوگ مُراد پانے والے ہوتے ہيں“۔ اور کچھ لوگوں کی زيارت ہوئی جن کے اخلاق يہ تھے، وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ (الشوريٰ۔ 37) (ترجمہ) ”اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حيائی کی باتوں سے پرہيز کرتے ہيں، اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کر ديتے ہيں“۔ وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ (الشوريٰ۔ 38) (ترجمہ) ”اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہيں اور نماز پڑھتے ہيں، اور اپنے کام آپس کے مشورہ سے کرتے ہيں اور جو مال ہم نے ان کو عطا فرمايا ہے اس ميں سے خرچ کرتے ہيں“۔ وہ يہاں پہنچ کر ٹھٹک کر رہ گئے، اور کہا : اے اللہ ميں اپنے حال سے واقف ہوں، ميں تو ان لوگوں ميں کہیں نظر نہيں آتا! پھر انہوں نے ايک دوسرا راستہ ليا، اب ان کو کچھ لوگ نظر آئے، جن کا حال يہ تھا، إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ o وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُوا آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُونٍ (سورہ صافات۔ 35،36) (ترجمہ) ”ان کا يہ حال تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ خدا کے سوا کوئي معبود نہيں تو غرور کرتے تھے، اور کہتے تھے، کہ بھلا ہم ايک ديوانہ شاعر کے کہنے سے کہيں اپنے معبودوں کو چھوڑ دينے والے ہيں؟ پھر اُن لوگوں کا سامنا ہوا جن کی حالت يہ تھی، وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ (الزمر۔45) (ترجمہ) ”اور جب تنہا خدا کا ذکر کيا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ايمان نہيں رکھتے انکے دل منقبض ہو جاتے ہيں، اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کيا جاتا ہے تو اُن کے چہرے کھل اُٹھتے ہيں“۔ کچھ اور لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جن سے جب پوچھا گيا، مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ o قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ o وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ o وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ oوَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ o حَتَّى أَتَانَا الْيَقِينُ (المدثر۔ 47-42) (ترجمہ) ”کہ تم دوزخ ميں کيوں پڑے؟ وہ جواب ديں گے کہ ہم نماز نہيں پڑھتے تھے اور نہ فقيروں کو کھانا کھلاتے تھے اور ہم جھوٹ سچ باتيں بنانے والوں کے ساتھ باتيں بنايا کرتے اور روز جزا کو جھوٹ قرار ديتے تھے، يہاں تک کہ ہميں اس يقيني چيز سے سابقہ پيش آگيا“۔ يہاں بھی پہنچ کر وہ تھوڑی دير کے لئے دم بخود کھڑے رہے۔ پھر کانوں پر ہاتھ رکھ کر کہا: اے اللہ! ان لوگوں سے تيری پناہ! ميں ان لوگوں سےبری ہوں۔ اب وہ قرآن مجيد کے اوراق کو ا لٹ رہے تھے، اور اپنا تذکرہ تلاش کر رہے تھے، يہاں تک کہ اس آيت پر جا کر ٹھہرے: وَآخَرُونَ اعْتَرَفُواْ بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُواْ عَمَلاً صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللّهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (التوبہ۔ 102) (ترجمہ) ”اور کچھ اور لوگ ہيں جن کو اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار ہے، انہوں نے اچھے اور برے عملوں کو ملا جلا ديا تھا قريب ہے کہ خدا ان پرمہربانی سے توجہ فرمائے، بے شک خدا بخشنے والا مہربان ہے“۔ اس موقع پر اُن کی زبان سے بے ساختہ نکلا، ہاں ہاں! يہ بے ےھشک ميرا حال ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے دو تاکیدوں کے ساتھ ذکر فرمایا "کہ بےشک ہم نے ایسی کتاب اتاری جس میں تمھارا اپنا تذکرہ موجود ہے. " کوئی ڈھونڈے تو سہی تلاش تو کرے. اسی لئے اس ناکارہ نے اپنے درس تفسیر کا اسلوب ھی یہ رکھا ھے ۔ مزید افادات کے لیے وزٹ کریں ہماری ویب سائٹ jamiataha.com askmuftihammad.com

Tafseeri Afadat# 30
تفسیری افادات #31 انتخاب از خلاصہ تفسیر مفتی حماد فضل عفی عنہ

تیرہویں پارے کے اند سورہِ رعد میں اللہ جل شانہ فرماتے ہیں وہ کافر لوگ کہتے ہیں کوئی نشانی کیوں نہ اتر پڑی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمادیجیے کہ آپ کا کام تو ڈرانا ہے. اللہ تعالیٰ نے فرمایا لکل قوم ھاد ہم نے ہر قوم کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ بتلانے والا بھیجا ہے. ہر قوم جو دنیا کے اندر آئی ہے اس کے پاس اللہ پاک کی طرف سے کوئی نہ کوئی راستہ بتانے والا اللہ کا نبی آیا ہے. ہاں اللہ تعالیٰ نے جن انبیاء علیہ السلام کا ہمیں بتایا ہمیں پتہ چل گیا اور جن کا نہیں بتایا تو ہم اجمالی ایمان رکھتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر نبی علیہ السلام تک جتنے بھی اللہ نے انبیاء اکرام بھیجے ہیں وہ برحق ہیں اور اللہ کے بھیجے ھوئے ہیں. ہندوستان میں پہلے ادوار کے اندر رام اورشری کرشن آئے تو کیا یہ لوگ نبی تھے؟ کسی متعین شخص کوقطعی طور پر نبی و پیغمبر تسلیم کرلینااس وقت تک درست نہیں ،جب تک قرآن وحدیث سے ان کی نبوت و پیغمبری ثابت نہ ہوجائےا مجملا ایمان کافی ہے کہ ہم اللہ کے تمام پیغمبر پر ایمان رکھتے ہیں، کسی خاص شخص کے لیے نبوت ثابت کرنے کی نہ تو کوئی ضرورت ہے اورنہ ہی بلا دلیل اس کی اجازت،اسی طرح کسی خاص شخص سے یقین کے ساتھ نبوت کی نفی کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہےشری کرشن ، گوتم بودھ اور زرتشت کی نبوت کا ہم قطعیت کے ساتھ انکار بھی نہیں کر سکتے اور قطعیت کے ساتھ ان کی نبوت کا فیصلہ بھی نہیں کر سکتے، اس میں کوئی خاص تعداد بھی ہم مقرر نہیں کریں گے.ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کی بات کیونکہ حدیث سے مستند نہیں اس لیے ہم اجمالن ایمان لے کر آئیں گے کہ اللہ نے جتنے بھی انبیاء علیہ السلام بھیجے وہ محض اللہ کے علم میں ہیں ہم ان سب پر ایمان لے کر آتے ہیں. اللہ ہی کو پتہ ہے اس نے کس قوم میں کس کو بھیجا. مزید افادات کے لیے وزٹ کریں ہماری ویب سائٹ پر jamiataha.com askmuftihammad.com

Tafseeri Afadat# 31