042-36628025

Contact us: info@jamiataha.com

Tafseeri Afadiyat

Tafseeri Afadiyat
تفسیری افادات # 32 انتخاب از خلاصہ تفسیر مفتی حماد فضل عفی عنہ

بیسویں پارے کے آغاز میں سورہِ نمل میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا بِهِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَهَا أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ بھلا کس نے بنائے آسمان اور زمین اور اتار دیا تمہارے لئے آسان سے پانی پھر اگائے ہم نے اس سے باغ رونق والے تمہارا کام نہ تھا کہ اگاتے ان کے درخت، اب کوئی اور اله ہے اللہ کے ساتھ، کوئی نہیں وہ لوگ سیدھی راہ سے مڑتے ہیں  لوگ اس الجھن میں پڑتے ہیں کہ الہ کا کیا معنی ہے؟ الہ ایک وسیع مفہوم رکھنے والا لفظ ہے. اللہ جل شانہ نے قرآنِ پاک میں مختلف مقامات پر اپنی صفات بیان فرمائیں ہیں جو کہ اللہ کی صفات خاص ہیں. اور جس میں وہ صفات پائی جاتی ہیں وہ ہی الہ ہے. یا جس میں ھم وہ صفات سمجھیں اگرچہ اس میں نہ ھو تو گویا ھم نے اپنا الہ اس کو بنا لیا ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات الوھیت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے علاوہ کوئی الہ ہے؟ کون ہے وہ ذات جس نے زمین اور آسمان کو پیدا فرمایا؟ اور جس نے آسمان سے بارش کو برسایا؟ اس میں تمھارے لیے باغات لگائے پھر اس میں درخت لگائے.تم تو نہیں لگا سکتے ءاله مع اللہ.....کیا اللہ کے سوا بھی کوئی اللہ ہے؟ اس سے پتہ چلا کہ کہ اله وہ ذات ہے جس نے زمین اور آسمان کو پیدا فرمایا. وہ ذات ہے جس نے آسمان سے بارش کو برسایا جو نباتات کو اگائے جو رزق کو دے. کیونکہ نباتات اور پانی یہ سب رزق ہی ہے. کیا اللہ کے علاوہ بھی کوئی الہ ہے؟ کس نے زمین کو ٹھہرایا ہے؟ کس نے رہنے کی جگہ بنایا؟ وہ ٹھہری ہوئی ہے کس نے اسے پکڑا ہوا ہے؟ کس نے نہروں کو بنایا؟ اور اس میں بوجھ رکھے. اور اس نے دودریاؤں کے درمیان آڑ رکھی. کیا اللہ کے علاوہ بھی کوئی یہ کرنے والا ہے؟ أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ کون ہے جو بے کس اور بے قرار کی دعا سنتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کرتا ہے؟ کیا اللہ کے علاوہ بھی کوئی الہ ہے؟ پتہ چلا کہ الہ وہ ہے جس کو مشکل میں پکارا جائے جس کو حاجت میں پکارا جائے. ہر شخص اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھے کیا وہ اپنی حاجات اور مشکلات میں اپنے جیسے انسانوں کو پکارتا ہے مدد کے لیے؟ یا پھر اللہ کو پکارتا ہے مدد کے لیے؟ اگر اللہ کو پکارتا ہے مدد کے لیے تو "اياك نعبد و اياك نستعين " اے اللہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں. تو کسی تکلیف یا پریشانی کو ختم کرنا انسان کے بس کی بات نہیں. اللہ کے علاوہ کوئی بھی نہیں ہے پریشانی دور کرنے والا. وہی حاجت روا ہے. وہی مشکل کشا ہے.وہی داتا ہے. اللہ چیلنج کرکے کہہ رہا ہے ءالہ مع اللہ اللہ کے علاوہ بھی کوئی الہ ہے؟ اللہ کے علاوہ کوئی الہ نہیں تو ہمیں اپنا قبلہ اللہ کی طرف کرنا لازم ہے.توحید کا ہونا بہت ضروری ہے. مزید افادات کے لیے وزٹ کریں ہماری ویب سائٹ پر jamiataha.com askmuftihammad.com

Tafseeri Afadat# 32
تفسیری افادات# 33 انتخاب از خلاصہِ تفسیر مفتی حماد فضل عفی عنہ

آٹھویں سپارے میں سورہِ انعام میں اللہ جل شانہ فرماتے ہیں کہ وَذَرُوا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُ  جو ظاہری گناہ ہیں ان کو چھوڑ دو اور جو باطنی گناہ ہیں ان کو بھی چھوڑ دو.ان باطنی گناھوں کی طرف ھمارا دھیان ھی نہیں جاتا ۔ جن گناہوں کا دل سے تعلق ہے یعنی حسد ہے، بغض ہے، دنیا کی محبت ہے، لالچ ہے، حبِ جاہ ہے، حبِ دنیا ہے ان گناہوں کو بھی چھوڑ دو، تکبر کو بھی چھوڑ دو، حسد بغض کینہ کو بھی چھوڑ دو . دیگر تفسیری افادات اور بیانات کے افادات کے لیے ہماری ویب سائٹ پر وزٹ کریں. jamiataha.com askmuftihammad.com ہر اتوار کو سنیے "میرا تذکرہ قرآن میں ہماری ویب سائٹ jamiataha.com

Tafseeri Afadat# 33
تفسیری افادات#34 انتخاب از خلاصہِ تفسیر مفتی حماد فضل عفی عنہ

آٹھویں سپارے میں سورہِ انعام میں اللہ جل شانہ فرماتے ہیں کہ فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا اور اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت دینے کا معاملہ فرماتا ہے اس کے لیے اسلام کا سینہ کھول دیتا ہے اور جس کے لیے اللہ گمراہی کا فیصلہ فرماتے ہیں اس کے دل کو تنگ کردیتے ہیں. اب یہاں پر بعض لوگ عام طور پر یہ خیال کرتے ہیں کہ جس کے ساتھ اللہ جل شانہ گمراہی کا ارادہ کریں اللہ اس کا سینہ تنگ کردیتے ہیں تو پھر اس کا کیا قصور کہ وہ ایمان لے کر نہیں آیا؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کبھی کسی متنفس پر ظلم نہیں فرماتے تو اگر اللہ تعالی نے کسی شخص کے دل پر مہر لگائی ہے تو یہ پکی بات ہے کہ اس نے اپنے اعمال کے زریعے، اپنے کرتوتوں کے زریعے مہر لگوائی ہے . اس نے اپنی ہٹ دھرمی کے زریعے سے انکار کرکے اور حق بات سے انکار کر کے اور گناہوں کی کثرت سے اپنے آپ کو اس کا حقدار بنایا ہے کہ اس کے اوپر گمراہی کا فیصلہ ھو ۔ دیگر تفسیری افادات اور بیانات کے افادات کے لیے ہماری ویب سائٹ پر وزٹ کریں. jamiataha.com askmuftihammad.com ہر اتوار کو سنیے "میرا تذکرہ قرآن میں ہماری ویب سائٹ jamiataha.com دیگر تفسیری افادات اور بیانات کے افادات کے لیے ہماری ویب سائٹ پر وزٹ کریں. jamiataha.com askmuftihammad.com ہر اتوار کو سنیے "میرا تذکرہ قرآن میں ہماری ویب سائٹ jamiataha.com

Tafseeri Afadat# 34
تفسیری افادات#36 انتخاب از خلاصہِ تفسیر مفتی حماد فضل عفی عنہ

آٹھویں پارے میں سورہِ اعراف میں ذکر ہے کہ اللہ جل شانہ نے شیطان سے پوچھا تمہیں کس چیز نے سجدے سے منع کیا کہ تم سجدہ نہ کرو؟ شیطان نے کہا میں آدم علیہ السلام سے بہتر ہوں. اس نے دلیل دی کہ اے اللہ آپ نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور ان کو مٹی سے بنایا. اللہ جل شانہ نے فرمایا تم نے تکبر کیا. بس تو یہاں سے نکل جا. اللہ تعالیٰ نے اس کو نکال دیا، دھتکار دیا. اس نے کہا اللہ بس مجھے قیامت تک مہلت دے دے. اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم کو مہلت دے دی گئی. اور آگے جو شیطان نے ذکر کیا تو بڑی عجیب بات ہے اس نے کہا "اے اللہ میں آپ کےبندوں کو سیدھی راہ سے بھٹکاؤں گا. ان کے سامنے آگے سے آؤں گا، ان کے پیچھے سے آؤں گا، ان کے دائیں سے آؤں گا، ان کے بائیں سے آؤں گا. ساری سمتوں سے آؤں گا اور ان کو گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا.اور ان کو بھٹکانے کی کوشش کروں گا تاکہ کسی طرح وہ آپ کے راستے سے ہٹ جائیں. دائیں سے آنے کا کیا مطلب ہے؟ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ آگے سے آنے کا مطلب یہ ہے کہ میں دنیا کی طرف سے آؤں گا یعنی مرنے کے بعد جی اٹھنے کا یقین، جنت کا شوق، جہنم کا خوف یہ دل سے نکال دوں گا. پیچھے سے آنے کا مطلب ہے کہ نیکیوں سے غافل کردوں گا.بائیں سے آنے کا مطلب یہ ہے کہ گناہوں کو پرکشش بنا کر اور گناہوں کو مزین کرکے میں اولادِ آدم کے سامنے پیش کروں گا. شیطان عارف تھا شیطان عالم بھی تھا عالم اس طرح سے تھا کہ اللہ تعالی نے اس کو حکم دیا کہ تجھے مہلت دے دی گئی. تو کہا کہ میں سیدھے راستے سے بھٹکاؤں گا، سیدھے راستے میں بیٹھوں گا ان کو گمراہ کروں گا. یعنی سیدھا راستہ اس کو پتہ ہے، تو عالم تو ہوا یعنی جاننے والا. اور عارف اس طرح ہوا کہ عین اس وقت جب اللہ جل شانہ اس کو دھتکار رہے تھے تو اس وقت بھی اس کو پتہ تھا کہ اللہ جل شانہ کا جو غصہ ہے اللہ کی رحمت اس غصے پر حاوی ہے اس نے اس وقت بھی مہلت مانگ لی. کہا کے اللہ تعالی مجھے مہلت دے دے.تو عارف بھی تھا مگر عاشق نہیں تھا. اللہ کا عاشق نہیں تھا.اگر عاشق ہوتا تو اللہ کے حکم کے اوپر فورا سجدے میں چلا جاتا. ھمارا تذکرہ ان آیات میں بڑا واضح ھے بس ذرا اپنے دل کے آئینے میں جھانک کر دیکھنے کی ضرورت ھے دیگر تفسیری افادات اور بیانات کے افادات کے لیے وزٹ کریں ہماری ویب سائٹ jamiataha.com askmuftihammad.com ہر اتوار کو سنیے میرا تذکرہ قرآن میں ہماری ویب سائٹ jamiataha.com

Tafseeri Afadat# 36
تفسیری افادات *26 انتخاب از خلاصہ تفسیر مفتی حماد فضل

پندرہویں سپارے میں سورہِ بنی اسرائیل کا آغاز ھے۔بنی اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد کا نام ھے ۔ان کے گیارہ بیٹے تھے ۔اور اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب تھا ۔جس کا مطلب ھے اللہ کا بندہ ۔ بنی اسرائیل اور اس امت کے حوالے سے حدیث مبارکہ میں ایک مضمون اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ تم ضرور بالضرور بنی اسرائیل کے نقشِ قدم پر چلو گے. حتی کہ بنی اسرائیل کے کسی شخص نے اگر غار میں جاکر پناہ لی ہوگی تو اس امت میں بھی کوئی شخص ایسا ہوگا جو غار میں جاکر پناہ لے گا. بنی اسرائیل میں سے اگر کسی نے اپنی ماں کے ساتھ زنا کیا ہوگا تو اس امت میں بھی ایسا ہی واقعہ ہوگا. بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور یہ امت بھی تہتر فرقوں میں بٹے گی. اس حدیثِ مبارکہ کو دیکھا جائے اور بنی اسرائیل کی ان دو تباہیوں کو دیکھا جائے اور امت مسلمہ کو بھی دیکھا جائے تو بڑی عجیب مماثلت ملتی ہے. امتِ مسلمہ کی بھی اس طرح دو پٹائیاں ہوئی ہیں اور یہی سات سات سو سال کے بعد ہوئی ہیں. پہلی پٹائی جو امتِ مسلمہ کی سات سو سال بعد ہوئی ہے وہ تاتاریوں کے ہاتھوں ہوئی. تاتاریوں نے بغداد تباہ کردیا اور مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا. اور اگلے سات سو سال بعد جو پٹائی ہوئی ہے وہ اب ہماری ہو رہی ہے.کفار کے ہاتھوں، عیسائیوں کے ہاتھوں. پچھلے ڈیرھ دوسو سال سے مسلمانوں پر جو ذلت مسلط ہے وہ ان عیسائیوں کی مرہونِ منت ہے . دوسری پٹائی بنی اسرائیل کی عیسائیوں کے ہاتھوں ہوئی اور ہمارے ساتھ بھی ان کے ہاتھوں ہورہی ہے. پٹائی ہونے کی وجہ بھی یہ تھی کہ انھوں نے شریعت کو چھوڑ دیا تھا، گناہوں میں پڑ گئے تھے.پھر اللہ کا عذاب آیا.ہمارے ساتھ بھی یہی ہوا ہے ہم نے بھی شریعت کو اور اللہ کو چھوڑے بیٹھے ہیں. اجتماعی طور پر اللہ کے احکام کو چھوڑ بیٹھے ہیں. اس لیے اللہ کی طرف سے یہ اجتماعی عذاب اور پریشانیاں آرہی ہیں. یہ ھے ھمارا تذکرہ ۔اگر کوئی عبرت کی نگاہ سے دیکھے اللہ مسلمانوں کو سمجھ عطا فرمائے اور ان کو اپنی طرف رجوع کرنےاور اجتماعی توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے. دیگر تفسیری افادات اور بیانات کے افادات کے لیے ہماری ویب سائٹ پہ وزٹ کریں jamiataha.com ہر اتوار کو سنیے میرا تذکرہ قران میں ـ ہماری ویب سائٹ jamiataha.com

Tafseeri Afadat# 26